تعلیم
موجودہ تعلیمی سال کے شعبہ جات، جماعتیں اور نصاب
تعلیمی سال ۱۴۴۷ھشعبہ جات
ناظرہ سے کامل الحدیث تک
ناظرہ
قرآنِ مجید کی بالتجوید تلاوت کے ساتھ ابتدائی دینی اور عصری تعلیم (تحتانیہ، وسطانیہ، فوقانیہ) تحتانیہ وسطانیہ فوقانیہ نصاب دیکھیںحفظ
قرآنِ مجید کا حفظ اور تجوید و قراءت کی تعلیم اورضروری مسائل شرعیہ شعبۂ حفظ نصاب دیکھیںمولویت
اردو زبان میں مختصرمدتی دینی نصاب: قرآن، حدیث، فقہ، عقائد، سیرت، انگریزی وغیرہ کی تعلیم ،کمپیوٹراورٹیلرنگ کی تربیت اردو مولوی اول اردو مولوی دوم اردو مولوی سوم نصاب دیکھیںعالمیت
مولویت، عالمیت:تفسیر،حدیث ، فقہ، اصولِ فقہ،عربی ادب، نحو،صرف، منطق، (عالم اول تا عالم دوم) مولوی اول مولوی دوم العالم الاول العالم الثانی نصاب دیکھیںفضیلت
درجات عالیہ: تفسیر، حدیث، فقہ، اصول حدیث،اصول ،مناظرہ،تاریخ ،عملی تربیت وغیرہ، دورۂ حدیث (کامل الحدیث) الفاضل الاول الفاضل الثانی النھائی (کامل الحدیث) نصاب دیکھیںمعاون شعبے
شعبۂ کمپیوٹر
شعبۂ کمپیوٹر جامعہ کی عصری تعلیم کا حصہ ہے، جہاں دینی نصاب کے ساتھ طلبہ کونہ صرف کمپیوٹر کی بنیادی اورابتدائی چیزیں سکھائی جاتی ہیں ۔مثلاً بیسک یم یس آفس (ورڈ ،پاورپائنٹ ،ایکسل )ڈیزائنگ کورس(فوٹوشاپ،کورل ڈرا،ان ڈیزائن)اوراردو انپیج ۔تاکہ فارغین جدید ذرائع سے دین کی خدمت اور اپنے امور کو بہتر انداز میں انجام دے سکیں۔
تعلیمی سال ۱۴۴۷ھ کے نصاب میں کمپیوٹرکی تعلیم باقاعدہ ایک پریڈ(مضمون کے طور پر) اردو مولوی سوم، العالم الاول، العالم الثانی اور الفاضل الاول کی جماعتوں میں شامل ہے۔ ہر جماعت میں اس کا امتحانی پرچہ ۱۰۰ نمبروں کا ہوتا ہے، اور یہ انگریزی و کنڑ زبان کی تعلیم کے ساتھ جامعہ کے عصری تعلیمی پروگرام کا اہم حصہ ہے۔
شعبۂ ٹیلرنگ
جامعہ میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کو ایک باعزت ہنر سکھانے کے لیے ٹیلرنگ (سلائی) کی کلاس قائم ہے، تاکہ فارغین حلال روزی کما کر اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔ ٹیلرنگ کے ایک تجربہ کار معلم کی نگرانی میں طلبہ ناپ لینے، کپڑا کاٹنے اور لباس سینے کی عملی تربیت حاصل کرتے ہیں۔
تعلیمی سال ۱۴۴۷ھ میں یہ کلاس دو بیچوں میں ہوتی ہے: پہلا بیچ ہفتہ، اتوار اور پیر کو اور دوسرا منگل، بدھ اور جمعرات کو، سہ پہر پونے تین بجے سے چار بجے تک؛ یوں جمعہ کے سوا ہفتے کے ہر دن کلاس لگتی ہے۔ اس وقت ۲۳ طلبہ زیرِ تربیت ہیں، جن کا تعلق مولوی اول و دوم اور اردو مولوی اول، دوم اور سوم کی جماعتوں سے ہے۔
ہر نشست کی حاضری جامعہ کے کمپیوٹرائزڈ نظام میں باقاعدہ درج کی جاتی ہے، اور اگست ۲۰۲۶ء سے دونوں بیچ پابندی سے جاری ہیں۔
انگریزی، کنڑ اور ریاضی
عصری تعلیم کے تحت انگریزی زبان ناظرہ کی پہلی جماعت (تحتانیہ) سے فضیلت تک پڑھائی جاتی ہے: تحتانیہ میں بیسک انگلش، وسطانیہ، فوقانیہ اور مولوی کی جماعتوں میں انگلش ریڈر، اور فاضل دوم و فائنل (کامل الحدیث) میں اسپوکن انگلش۔ کنڑ زبان «کلی کنڑا» اور «تلی کنڑا» کی کتابوں کے ذریعے ناظرہ اور مولوی کی جماعتوں میں پڑھائی جاتی ہے، تاکہ فارغین اپنی ریاست (کرناٹک) اور وسیع تر معاشرے میں مؤثر طورپرخدمات انجام دے سکیں۔
دارالمطالعہ
دارالمطالعہ جامعہ کا علمی سرمایہ ہے۔ اس میں ۲۴۴۸ کتب (۳۷۴۹ جلدیں) ہیں، جن کے آٹھ ہزار سے زائد نسخے ۳۳ الماریوں میں ترتیب سے رکھے گئے ہیں۔ ذخیرے کا بڑا حصہ اردو (۱۵۴۶ کتب) اور عربی (۸۰۶ کتب) پر مشتمل ہے، جبکہ فارسی، انگریزی اور ہندی کی کتابیں بھی موجود ہیں؛ ان میں بارہ سو سے زائد مصنفین اور آٹھ سو سے زائد ناشرین کی کتب شامل ہیں۔
کتابیں موضوع وار مرتب ہیں: سیرت (۳۱۸ کتب)، فقہ (۲۱۲)، حدیث (۲۰۸)، عقائد (۱۷۰)، تصوف (۱۵۱)، تفسیر (۱۱۶)، نحو و صرف، عربی و فارسی ادب، اصولِ فقہ، بلاغت، منطق، تاریخ، فتاویٰ اور شاعری۔ پرانی اور خستہ کتابوں کی جلد سازی بھی باقاعدگی سے کرائی جاتی ہے؛ صرف ۲۰۲۵ء میں ۴۵۹ کتابوں کی جلد سازی کرائی گئی۔
کتابوں کے اجرا اور واپسی کا نظام کمپیوٹرائزڈ ہے: ہر نسخے کا اپنا نمبر ہے جسے اسکین کر کے کتاب جاری اور واپس کی جاتی ہے۔ عالمیت، فضیلت اور اردو مولویت کے طلبہ قابلِ واپسی زرِ ضمانت جمع کر کے کتابیں حاصل کرتے ہیں، اور اساتذہ و عملہ بھی دارالمطالعہ سے استفادہ کرتے ہیں۔ ۲۰۲۱ء سے اب تک ساڑھے چھ ہزار سے زائد کتابیں جاری کی جا چکی ہیں، اور صرف ۲۰۲۵ء میں ۱۰۷ طلبہ اور عملے کے ۱۵ افراد نے ۱۲۲۵ کتابیں مستعار لیں۔
نصابِ تعلیم
تعلیمی سال ۱۴۴۷ھ میں ہر شعبے کی تعلیم کا خلاصہ
شعبۂ ناظرہ جامعہ کی بنیادی درس گاہ ہے جہاں بچے قرآنِ مجید کی صحیح تلاوت کے ساتھ ابتدائی دینی اور عصری تعلیم حاصل کرتے ہیں اوراسلامی تربیت پاتے ہیں ۔ یہ تین سالہ نصاب تین جماعتوں پر مشتمل ہے: تحتانیہ، وسطانیہ اور فوقانیہ، اور ہر جماعت میں طلبہ کی ایک مناسب تعدادہوتی ہے۔طلبہ کثیرہونے پرانھیں (الف، ب، ج)میں تقسیم کرتےہوئے سیکشن کیاجاتاہےتاکہ ہر طالبِ علم پر انفرادی توجہ دی جا سکے۔
تحتانیہ میں ’’یسرنا القرآن‘‘ سے حروف و حرکات کی پہچان اور ناظرہ کا آغاز ہوتا ہے، جبکہ وسطانیہ اور فوقانیہ میں قرآنِ مجید کی روانی سے تلاوت مکمل کرائی جاتی ہے۔ ساتھ ہی اردو ادب (تعمیرِ ادب)، روزمرہ کی دعائیں اور ادعیہ (گلشنِ وظائف)، ریاضی (گلشنِ ریاضی)، انگریزی (بیسک انگلش اور انگلش ریڈر) اور کنڑ زبان (کلی کنڑا) پڑھائی جاتی ہے۔
ہر جماعت کا امتحان ۵۰۰ نمبرات کا ہوتا ہےجس کاانعقادسال میں دودفعہ ( ششماہی اور سالانہ کی شکل میں)ہوتاہے۔
فوقانیہ سے فراغت کے بعد طلبہ شعبۂ حفظ یا اردو مولویت میں داخل ہوتے ہیں۔
مضامین: ناظره، اُردو ادب، ادعیہ، ریاضی، انگلش، کنڑ
مضامین: قرآن، اُردو ادب، ادعیہ، ریاضی، انگلش، کنڑ
مضامین: قرآن، اُردو ادب، ادعیہ، ریاضی، انگلش، کنڑ
شعبۂ حفظ میں طلبہ پورے قرآنِ مجید کو تجوید کے ساتھ حفظ کرتے ہیں۔کثرت طلبہ کے سبب امسال یہ شعبہ پانچ درس گاہوں (الف،ب،ج،د،ھ)پرمشتمل ہے۔، اور ہر سیکشن ایک مجود حافظ استاد کی نگرانی میں روزانہ سبق، سبق پارہ اور منزل کے معمول پر چلتا ہے۔
نصاب کا مرکز قرآنِ مجید ہے: نئے پاروں کا حفظ، پچھلے پاروں کادور اور مخارج و صفات کی اصلاح۔ طلبہ کی پیش رفت کا جائزہ ششماہی اور سالانہ امتحانات میں لیا جاتا ہے، جن میں حفظ کی مقدار اور روانی کو ۱۰۰ نمبروں پر پرکھا جاتا ہے۔
عام طور پر یہ سفر تین سے چار سال میں مکمل ہوتا ہے۔ تکمیلِ حفظ کے بعد حفاظِ کرام اردو مولویت یا درسِ نظامی (عالمیت) میں داخل ہو کر علمِ دین کی اگلی منزلیں طے کرتے ہیں۔
مضامین: حفظ
اردو مولویت تین سالہ مختصرمدتی دینی نصاب ہے جو خاص طور پر حفاظِ کرام اور ان بڑی عمرکےطلبہ کے لیے ہے جو اردو زبان میں دین کی بنیادی تعلیم قلیل مدت میں مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی تین جماعتیں ہیں: اردو مولوی اول، دوم اور سوم، ہر ایک کا ایک ایک سیکشن۔
*پہلے سال قرآنِ مجید مع تجوید (معرفۃ التجوید)، فقہ (انوارِ شریعت)، سیرتِ مصطفیٰ، اردو ادب، ریاضی، انگریزی اور کنڑ پڑھائی جاتی ہے۔
* دوسرے سال تفسیر (صراط الجنان)، حدیث (جواہر الحدیث، انوار الحدیث)، فقہ (قانونِ شریعت)، علومِ قرآن (مسائل القرآن)، تصوف (مختصر منہاج العابدین) اور سوانحِ اعلیٰ حضرت شامل ہیں۔ تیسرے سال تلخیصِ بخاری شریف، مرآۃ المناجیح، بہارِ شریعت، خزائن العرفان، جاء الحق، سیرتِ خلفائے راشدین اور کمپیوٹر کی تعلیم دی جاتی ہے۔
امتحانات ۸۰۰ سے ۹۰۰ نمبروں کے ہوتے ہیں (ششماہی اور سالانہ)۔ فارغین مساجد و مکاتب میں امامت و تدریس شکل میں خدمت انجام دیتےہیں یا درسِ نظامی میں داخلہ لیتے ہیں۔
مضامین: قرآن مجید، اُردو ادب، تجوید، فقہ، سیرت، ادعیہ، ریاضی، انگلش، کنڑ، لازمی مطالعہ
مضامین: قرآن مجید، حدیث، تصوف، لازمی مطالعہ، تفسیر، فقہ، اصولِ تفسیر، سیرت، انگلش، کنڑ
مضامین: حدیث، فقہ، لازمی مطالعہ، تربیت، تفسیر، عقیدہ، ادعیہ، کمپیوٹر
شعبۂ عالمیت درسِ نظامی کا پہلا مرحلہ ہے جس میں عربی زبان کے علوم اور دینی فنون کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اس کی چار جماعتیں ہیں: مولوی اول اور مولوی دوم ، العالم الاول اور العالم الثانی۔
*مولوی اول و دوم میں صرف و نحو (دراسۃ الصرف، قواعد النحو، ہدایۃ النحو، شرح مائۃ عامل)، عربی ادب و انشاء (فیض الادب، معلم الانشاء)، فارسی (گلستاں)، منطق (جواہر المنطق) اور فقہ (نور الایضاح) کے ساتھ انگریزی اور کنڑ پڑھائی جاتی ہے۔
* العالم الاول اور الثانی میں کافیۃ النحو اور شرح جامی، منطق (شرح تہذیب، قطبی)، بلاغت (دروس البلاغۃ، البلاغۃ الواضحۃ)، فقہ (مختصر القدوری، شرح الوقایہ)، اصولِ فقہ (اصول الشاشی، نور الانوار)، حدیث (مؤطا امام محمد، مشکاۃ المصابیح)، تفسیر (جلالین) اور علومِ قرآن (زبدۃ الاتقان) کے ساتھ کمپیوٹر کی تعلیم شامل ہے۔
ہر جماعت کا امتحان ۹۰۰ تا ۱۰۰۰ نمبروں کا ہوتا ہے (ششماہی اور سالانہ)۔ اس مرحلے کی تکمیل پر طلبہ شعبۂ فضیلت میں داخل ہوتے ہیں۔
مضامین: فقہ، نحو، صرف، عربی انشاء، فارسی قواعد وادب، منطق، عربی ادب، لازمی مطالعہ، انگلش، کنڑ
مضامین: عربی ادب، نحو، فارسی ادب، ترکیب نحوی، عربی انشاء، فقہ، صرف، منطق، انگلش، کنڑ، لازمی مطالعہ
مضامین: الحدیث، النحو، المنطق، الدراسة اللازمة، البلاغة، دراسۃ قرآنیۃ، الفقه، اصول الفقه، الادب العربی، الانشاء العربی، کمبیوتر
مضامین: الفقه، اصول الحدیث، البلاغة، الانشاء العربی، التصوف، الدراسة اللازمة، اصول التفسیر، الادب العربی، التفسیر، الحدیث، اصول الفقه، کمبیوتر
شعبۂ فضیلت درسِ نظامی کا آخری اور اعلیٰ مرحلہ ہے۔ اس کی تین جماعتیں ہیں: الفاضل الاول، الفاضل الثانی اور النہائی (کاملُ الحدیث)، ہر ایک کا ایک سیکشن، جہاں طلبہ تفسیر، حدیث، فقہ اور اصول کی امہات الکتب براہِ راست پڑھتے ہیں۔
*الفاضل الاول میں التفسیرات الاحمدیہ، مسند امام اعظم، سنن ابی داؤد، ہدایہ (اول)، شرح العقائد النسفیہ، مختصر المعانی، المدیح النبوی اور مناظرۂ رشیدیہ پڑھائی جاتی ہے۔
*الفاضل الثانی میں مدارک التنزیل، جامع الترمذی، ہدایہ (دوم)، الحسامی، نزہۃ النظر، السراجیہ (علمِ میراث) اور المعتقد المنتقد کے ساتھ سپوکن انگلش شامل ہے۔
* النہائی یعنی دورۂ حدیث میں صحیح البخاری، صحیح مسلم، شرح معانی الآثار اور تنویر السنن کے ساتھ تفسیر البیضاوی، مسلم الثبوت اور الاشباہ والنظائر کا درس ہوتا ہے۔
امتحانات ۸۰۰ تا ۱۰۰۰ نمبروں کے ہوتے ہیں۔ دورۂ حدیث کی تکمیل پر فارغین کو سالانہ جلسۂ دستارِ فضیلت میں سندِ فراغت اور دستار عطا کی جاتی ہے۔
مضامین: الحدیث، البلاغة، اصول التفسیر، الدراسة اللازمة، المناظرة، التفسیر، الفقه، العقیدة، الادب العربی، الانشاء العربی، کمبیوتر
مضامین: العقیدة، الادب العربی، الانشاء العربی، الدراسة اللازمة، الحدیث، التفسیر، الفقه، المیراث، اصول الحدیث، اصول الفقه، الانجلیزی
مضامین: الحدیث، اصول الفقه، تربیت، التفسیر، قواعد الفقه، الانجلیزی، الدراسة اللازمة
اساتذۂ کرام
مولانا محمد قلندر رضوی صاحب
مولانا محمدعتیق الرحمٰن صاحب
مولانا محمد خالد رضا صاحب
حافظ محمد ریاض احمد صاحب
مفتی محمد شبیر عالم صاحب
حافظ محمدعبد العزیز صاحب
مولانا محمد ارشاد صاحب
مولانا محمد ریاض احمد صاحب
مولانا شیخ محمدحسین صاحب
حافظ محمدابراہیم صاحب
مولانا محمدامین الدین صاحب
مولاناسید محمدعاطف ابرارصاحب
مولانا محمدنعمان رضا صاحب
حافظ محمد سلیم رضا صاحب
مولانا سید محمد مجیب صاحب
مولانا محمدغلام جیلا نی صاحب
مولانا محمدزین العابدین صاحب
مولانا محمدشمس تبریز صاحب
مولانا محمدواصل رضاصاحب
مولانا محمدعبد اللہ صاحب
حافظ محمدصابر صاحب
مولانا شیخ نور محمد صاحب
ماسٹرمحمدابرارخان رضوی صاحب
ماسٹر حافظ عبد الرحمٰن صاحب
حافظ حسن رضاخان صاحب
ماسٹر عرفان نوری صاحب
مولانامحمد سلمان رضا صاحب